Home » Essays » زندگی اور ادب

زندگی اور ادب

زندگی اور ادب

                        ادب کیا ہے؟     اس کے بارے میں مختلف ادوار میں مختلف نظریے پیش کیے گئے ہیں۔مشترکہ خیال یہ ہے کہ ادب زندگی کی عکاسی کا نام ہے اور حسن اور سلیقے سے مؤثر پیرائے میں خیالات کا اظہار نام ہے۔ادب اور زندگی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔دونوں اس طرح مربوط ہیں کہ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور ممکن نہیں۔مختصر یہ کہ ادب کا تعلق زندگی سے بہت گہرا ہے آپ نے کبھی ایسا جملہ یا شعر نہیں سنا ہو گا جو زندگی کے کسی نہ کسی پہلو سے تعلق نہ ہو۔ادب آخر سماج کا ہی ایک فرد ہوتاہے اور اس کی داخلی کیفیت کا اظہارخارجی محرکات کا مرہون منت ہے۔

                        زندگی ارتقا اورمسلسل ارتقا کا نام ہے،جس میں انفرادی اور اجتماعی دونوں پہلو شانہ بشانہ چلتے ہیں۔زندگی کے چند بنیادی مطالبات ہیں جن کی تکمیل ادبی تخلیقات کی صورت میں رونما ہوتی ہے اور یہ تقاضے فطرتی صلاحیتوں کے سر چشمے سے نکلتے ہیں،جو قدرت کی طرف سے انسان کو ودیعت کی گئی ہیں مثلاًانسان فطرتاًداخلی واردات کو دوسرے انسان پر ظاہر کرنے پر مجبور ہے اور پھر انسان معاشی حیوان ہونے کی حیثیت سے دوسرے انسانوں کے افعال اور اعمال سے گہرا لگاؤ رکھتا ہے اور اس کا اظہار الفاظ کے ذریعے کرتا ہے اس طرح یہ تخلیق عمل میں آتی ہے،لیکن ان تخلیقات میں رنگ ثبات و دوام اس وقت پیدا ہوتا ہے جب زندگی کی دائمی قدروں کے ساتھ ساتھ فنی اور جمالیاتی اقتدار کا رنگ بھی موجود ہو۔رومی،سعدی۔مرزا غالب اوراقبال ؒوغیرہ کی بقا اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جہاں انھوں نے زندگی کی بنیادی قدروں اور مسائل کو اپنے ادب میں سمو دیا،وہاں رنگ آمیزی بھی کی ہے اور یہی امتزاج ان کی عظمت کا باعث ہے،غالب نے اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے۔

حسن         فروغ          شمع           دور                  ہے                   اسد

پہلے                   دل                    گذرشتہ            پیدا       کرے    کوئی

اور اقبال ؒنے بھی اسی خیال کو ظاہر کیا ہے۔

نقش        ہیں        سب      ناتمام     خون        جگر        کے       بغیر

                        ہر دور کا ادب اور فن اس دور کی زندگی کے لیے پید اہوا ہیاور اس کی نمائندگی کرتا ہے اور پھر انے والے دور کی نقیب بن جاتاہے،اس لیئے جہاں وہ اپنے ماحول کی عکاسی کرتا ہے وہاں وہ نئے ماحول کا خالق بھی ہوتا ہے۔بعض بقادوں اور ادیبوں اور شاعروں نے ادب اور زندگی کے رشتے کو سمجھنے میں غلطی کی اور ادب برائے اد ب نعرہ لگایا ادبی تحریکیں چلیں۔بعض نے کہا اد ب کی دو حثیتیں سماجی اور فنی ہیں۔اگر ادب میں زندگی کے سنگین مسائل و حقاق پیش کیے جائیں تو فنی معیار جاتا رہے گا سب سے پہلے ایک ایسی تحریک  کے عمل برداروں کے نزدیک ادب کا سب بڑا مقصد تخلیقی حسن ہے۔ادب میں افادیت کا تصور ان کے نزدیک کفر ہے،ان کے نزدیکووہ فنکارجو فن کی بجائے کسی اور مقصد کا متلاشی ہو،فنکار ہی نہیں۔ان کے نزدیک جو ادباموضوع اور مواد محض بلند کرتے مگر ان کی تخلیقات زندگی کی حقیقتوں کو نظر انداز کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔اس جمالیاتی نظریے کو پیش کرنے والے ایسے ادب سے نفرت کرتے تھے،جس میں کوئی مخصوص مقصدیت ہو جیسا کہ کیٹس نے کہا:

.”حسین چیز بجائے خود ایک ابدی مسرت ہے“

                        سب سے [پہلے جس نے ادب کی معقول تعریف کی اور ادب اور زندگی میں مطابقت پیدا کر نے کی کوشش کی وہ میتھیو آرنلڈ تھا۔ اس  نے ادب کو زندگی کی تنقید قرار دیا۔ادب زندگی کی عکاسی اور ترجمانی ہی نہیں کرتا بلکہ زندگی کو تنقیدی نظرسے دیکھتا  بھی ہے۔ایک اچھا ادیب صرف یہ ہی نہیں جانتا کہ وہ کیا کہے رہا ہے۔بلکہ اس کے نزدیک یہ بھی ایک سوچی سمجھی بات ہوتی ہے کہ وہ کیوں کہے رہا  ہے اور اس کا اثر معاشرے پر کیا ہو سکتا ہے۔کیوں کے ادب کا مقصد انسانی زندگی کو بہتر بنانا ہے۔حقیقت ہے کہ دینا کا کوئی ادیب بھی اپنے گردوپیش کی زندگی سے کبھی دامن نہیں بچا سکتا۔اردو غزل کو ہی لیجییجسے صرف گل و بلبل کے فسانوں تک محدود سمجھا جاتا ہے۔والی کے ہاں معاشرتی زندگی کے حقائق ملتے ہیں،میر کی غزلوں میں اٹھارویں صدی کے سیاسی مزاج اور انتشار کا عکس موجود ہے۔اسی طرح میر درد کی غزلوں میں دنیا کی ثباتی اورزندگی کے کے طوفان میں جینے کے ہاتھوں مرچلنے کی شکایت اس دور کی سماجی بدحالی کی پیدا وار ہے۔ہمارے افسانوی ادب میں بھی ہر دور کی زندگی کے نقش ملتے ہیں ۷۵۸۱ء کے بعد ادب میں انقلاب برپا ہوا۔سر سید اور ان کے رفقانے نئے ادب  کے مکتب کی بنیاد ڈالی۔جب وطن اور قومی شاعر کا رواج ہوا اور انھیں احساس ہوا کہ قویم علم و ادب  کے دفتر بے معنی ہیں۔اب لوگوں کے سامنے ادب وشعرکا وہ نمونہ تھا جو سر سید اور ان کے رفقا نے پیش کیا تھا۔اقبال ؒاور اسکے معاصرین نے ادب سے قومی اصلاح کا کام لیا۔

                        ۶۳-۵۳۹۱ء میں ترقی پسند تحریک چلی ا ور ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی پر بحث شروع ہوئی۔ادب برائے ادب کے مخالفین بھی حدسے زیادہ تجادزکر گئے۔کچھ لوگ حقیقت پسندی کے جنون میں فن اور جمالیاتی پہلو کو نظر انداز کر گئے۔ایک گروہ ایسا بھی ہے جو جادہ اعتدال پر رہا۔وہ جہا ں ادب کے لیے زندگی کی ترجمانی ضروری قرار دیتا ہے وہاں اس کے جمالیاتی پہلو کوبھی نا گزیر گردانتا ہے۔یعنی ادب کا مقصد حظ آفرینی کے ساتھ معاشرتی اصلاح بھی ہے۔فن میں مقصدیت کا باوا آدم افلاطون ہیجس نے ادب کے لیے اخلاقی ہونا ضروری قرار دیا۔اس کے نزدیک ادب کا ایک مقصد اچھے شہری پیدا کرنا ہے۔علامہ اقبال ؒ بھی ادب کی افادیت کے قائل ہیں۔ان کے نزدیک اچھا شاعر یا ادیب وہ ہے جس کے دل میں قول کا درد ہے

 ؎شاعر                 رنگین       نوا          ہے        دیدہ        بینائے   قوم

جدید دور میں ہمارے شاعروں اور اد یبوں نے ہماری زند گی اور اس کے بدلتے ہوے تقاضو ں کی ترجمانی ہے۔تقسم ہند کا واقع ہو یا ۵۶۹۱ء کی جنگ یا سقوط مشرقی پاکستان،ہمارے ادیب زندگی کے ان تقاضوں سے بے نیازنہیں رہے۔

                        الغرض ادب کا موضوع زندگی ہے اور اس کے کئی پہلو ہیں۔معاشرتی،سماجی ،تعلیمی اوراخلاقی۔زندگی گو نا گو ں پیغامات کی حامل ہے اور یہی تناع ادب کا موضوع ہے۔مذہب و اخلاق اور ادب میں چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔خود تصوف نے ہماری فارسی اور اردو شاعری میں عجیب و غریب رنگ بھرے ہیں۔اقبال ؒ کی شاعری اسی لحاظ سے پیش کی جا سکتی ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا کے ادیب اور شاعرکا نقطہ نظر زندگی اور حقائق کے بارے میں عامیانہ نہیں ہوتا۔بل کہ وہ اپنے احساسات و مشاہدات لے لیے مخلف انداز اختیا ر کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ معیاری ادب اخلاقی اقدار اور زندگی کے اجتماعی مسائل کا حامل ہوتے ہوئے بھی محض تبلیغ اور پندو نصائح کا دفتر نہیں ہوتا۔ادبی تخلیقات کو تین حصوں میں تقسم کیا جا سکتا ہے،اول وہ تحریریں ہیں جن میں زندگی سنوارنے کی کوششیں بھی ہیں اور جمالیاتی پہلو بھی ہے۔اقبال ؒ کا بیشتر کلام اسی ضمن میں آتا ہے دوم وہ تحریریں ہیں جن میں زندگی سنوارنے کی کوششیں نہیں لیکن حسن کاری  موجودہے،مثلاً درد کا یہ شعر ہے۔

زندگی               ہے         یا           کوئی                   طوفان              ہے

ہم                 تو           اس       جینے       کے        ہاتھوں   مر         چلے

                        ایسی تحریروں میں چاہے احساس ہو یا زندگی سے بیزاری،لیکن چوں کہ ان کا تعلق انسان کے بنیادی تقاضوں سے ہوتا ہے اس لیے ایسی تحریریں بھی ترو تازہ رہتی ہیں۔تیسری قسم ان تخلیقات کی ہوتی ہے،جن میں زندگی تو ہوتی ہے مگر وہ شعریت سے عاری ہوتی ہے مثلاًحالی کا یہ شعر

کب     کیا،       کیوں        کر          کیا،             یہ          پوچھتا         کوئی       نہیں

بل       کہ       ہیں     ٰٓ     یہ      دیکھتے      جو         کچھ       کیا        کیسا           کیا

                        ایسی باتیں زندگی آمیز توہیں لیکن خودان میں زندگی نہیں اس لحاظ سے پہلی دو قسم کی تحریریں زیادہ پیدار ہوتی ہیں۔

You Can Learn and Gain more Knowledge through our Online Quiz and Testing system Just Search your desired Preparation subject at Gotest.

Leave a Reply

Your email address will not be published.